اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں الگ الگ فضائی حملوں کے دوران حماس کی بحریہ کے ایک کمانڈر سمیت تنظیم کے چار ارکان کو شہید کر دیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے علاقے میں پیر کے روز کیے گئے حملے میں حماس کے نیول ارے کے سیل کمانڈر اسامہ نعیم حمدی شملخ کو نشانہ بنایا گیا۔
فوج کے مطابق حماس کی بحری شاخ سمندری کارروائیوں اور کمانڈو سرگرمیوں میں کردار ادا کرتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ شمالی غزہ میں ایک اور فضائی حملے میں حماس کے مزید تین ارکان شہید ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد اسرائیلی دفاعی فورسز کے اہلکاروں پر حملے کی تیاری کر رہے تھے، جس کے بعد انہیں نشانہ بنایا گیا۔
گڑیا کا جنازہ ، غزہ میں بچوں کی ویڈیو نے دل پگھلا دیئے
اسرائیلی فوج نے ان دعوؤں کے حوالے سے مزید شواہد جاری نہیں کیے، جبکہ حماس کی جانب سے بھی فوری طور پر اس بیان پر کوئی ردعمل یا شہادتوں کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
غزہ میں اسرائیلی فوج اور حماس کے درمیان لڑائی کے دوران دونوں جانب سے روزانہ کارروائیوں اور جانی نقصانات کے دعوے کیے جاتے ہیں، تاہم جنگی حالات کے باعث ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق اکثر ممکن نہیں ہوتی۔
واضح رہے کہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ میں اسرائیلی مظالم جاری ہیں ، جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں اب تک مزید ایک ہزار 98 فلسطینی جاں بحق اور 3 ہزار 535 زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے گزشتہ روزفضائی حملے کے بعد پھر علاقے سے انخلا کا حکم بھی دے دیا ہے۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے غزہ کے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں 73 ہزار 223 فلسطینی جاں بحق جبکہ ایک لاکھ 73 ہزار 654 زخمی ہو چکے ہیں۔
