برگن اسٹاک: ٹرمپ کی دھمکیوں کے باعث امریکا ایران تکنیکی سطح کے مذاکرات کا دوسرا دور تعطل کا شکار ہو گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے باعث ایرانی وفد نے مذاکرات کا مقام چھوڑ دیا۔ ایرانی وفد کے سینئر ارکان ہال سے چلے گئے جبکہ کچھ ارکان مذاکراتی مقام پر موجود ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران امریکا تکنیکی مذاکرات میں توجہ جنگ کے خاتمے اور پابندیوں میں ریلیف پر رہی۔ منجمد فنڈز کی بحالی آج کے مذاکرات کا حصہ تھی۔
ایرانی وفد امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تاحال کمرے میں نہیں گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد ایرانی وفد نے امریکی فریقین کے سامنے بارہا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
ایرانی وفد نے قطر کے مذاکراتی وفد سے دو طرفہ گفتگو کی۔
عرب میڈیا نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ مؤقف اور دھمکیوں کے باعث ہمارا وفد مذاکرات کے مقام سے چلا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وفد نے ایرانی میڈیا کو سمٹ ہال سے ہوٹل پہنچنے کی ہدایت کر دی۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے غیر ملکی ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں وقفہ ہے۔ ختم نہیں ہوئے۔
ایرانی مذاکراتی وفد نے کہا کہ لبنان میں جنگ ختم نہ ہوئی تو دیگر موضوعات پر مذاکرات نہیں ہوں گے۔ جبکہ منجمد ایرانی فنڈز کی بحالی سے متعلق انتظامی طریقہ کار طے پا گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات، پہلا دور 80 منٹ جاری رہا
مذاکراتی وفد کے رکن نے کہا کہ ایرانی تیل کی پابندیوں میں استثنیٰ سے متعلق ایک حتمی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اور ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں جلد استثنیٰ جاری ہو جائے گا۔
اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا اپنے بیانات میں محتاط رہے۔ کیونکہ ایرانی مسلح افواج بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ہم امریکی دھمکیوں کو کسی کھاتے میں نہیں لاتے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی نہیں سوچتے ان کی دھمکیوں کا کوئی نتیجہ ہوتا تو آج ایسے بے بس نہ ہوتے۔ امریکی جتنا مرضی بولیں، یہ ہم ہیں جو عمل کرتے ہیں۔
