اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی رہنما سینیٹر ڈاکٹر زرقاء کو پارٹی پالیسی سے متصادم بیانات دینے پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔ جس میں ان سے آزاد جموں و کشمیر سے متعلق دیئے گئے بیانات پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔
سینیٹر ڈاکٹر زرقاء کو نوٹس پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے دستخط سے جاری کیا گیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ فلور پر دیا گیا بیان پارٹی مؤقف سے متصادم ہے۔
شوکاز نوٹس میں آزاد کشمیر کے عوام سے متعلق استعمال کی گئی زبان پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ جبکہ سینیٹ میں کی گئی تقریر اور بعد ازاں میڈیا پر دیئے گئے بیانات کو بھی نوٹس کا حصہ بنایا گیا ہے۔
پارٹی مؤقف کے مطابق ذاتی آراء کو پارلیمانی پلیٹ فارم سے پیش کرنے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اور اسے پارٹی بیانیے کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ قومی اہمیت کے حساس معاملات پر پارٹی پالیسی کی پابندی لازم ہے، جبکہ آئندہ غیر مجاز بیانات سے گریز کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
سینیٹر ڈاکٹر زرقاء سے 7 روز میں تحریری جواب طلب کیا گیا ہے۔ پارٹی قیادت نے ہدایت کی ہے کہ حساس قومی و علاقائی معاملات پہلے پارٹی فورم پر اٹھائے جائیں اور عوامی سطح پر بیان بازی سے اجتناب کیا جائے۔
