امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے میں پاکستان کے ثالثی کردار کو عالمی سطح پر غیر معمولی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، جبکہ بین الاقوامی میڈیا اور ماہرینِ امور خارجہ نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔
معروف امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ پاکستان کے لیے ایک مکمل اور غیر مشروط سفارتی کامیابی ثابت ہوگا، کیونکہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان اہم ثالث کا کردار ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے امریکا۔ایران امن معاہدے پر جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں امریکی اور ایرانی حکام باضابطہ دستخط کریں گے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے پاکستان کی سفارتی کامیابی کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے لکھا کہ سفارتی میدان میں پاکستان کا یہ کارنامہ بالکل ایسا ہے جیسے کیپ ورڈی کی فٹبال ٹیم فیفا ورلڈ کپ جیت لے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر پاکستانی قیادت کی عوامی سطح پر تعریف کر چکے ہیں اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حوالے سے بھی مثبت رائے کا اظہار کیا ہے۔
امریکی جریدے کے مطابق، اپریل میں ہونے والے اسلام آباد مذاکرات نے پاکستان کو عالمی میڈیا میں مثبت توجہ حاصل کرنے کا ایک نادر موقع فراہم کیا، جبکہ صدر ٹرمپ کا پاکستان کی جانب بڑھتا ہوا جھکاؤ، بھارت کی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی سفارتی کوششوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار میں واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور دوطرفہ روابط میں غیر معمولی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔
دوسری جانب، ماہرینِ امور خارجہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی میزبانی اور تصادم کے بجائے مکالمے کو فروغ دے کر پاکستان نے خود کو بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک غیر جانبدار اور معتبر ثالث کے طور پر منوایا ہے۔
ماہرین کے مطابق، ایران کے اعتماد اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے تزویراتی تعلقات نے پاکستان کو ثالثی کے لیے ایک منفرد مقام فراہم کیا ہے، جس کے باعث وہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں مؤثر کردار ادا کرنے میں کامیاب رہا۔
