امریکا کے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ردعمل آ گیا۔
امریکی بحریہ کی قیادت میں قائم جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اطلاق تمام بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق امریکی فوج 14 جولائی رات 8 بجے سے ایران کی تمام بندرگاہوں، آئل ٹرمینلز اور ساحلی علاقوں کے گرد بحری ناکہ بندی پر عملدرآمد شروع کرے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ناکہ بندی صرف ایرانی بندرگاہوں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ ایران کے تمام ساحلی علاقوں پر محیط ہوگی۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی اقدامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران ہمیشہ سے آبنائے ہرمز کا محافظ رہا ہے اور آئندہ بھی یہی کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے ٹرمپ کی جانب سے معاوضہ وصول کرنے والی بات پر کہا کہ امریکی صدر بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں جو کوئی بھی آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد ورفت کو یقینی بناتا ہے اسے اس کا معاوضہ ملنا چاہئے۔
تاہم عباس عراقچی نے امریکی صدر کی جانب سے تجویز کردہ 20 فیصد معاوضے کو بہت زیادہ قرار دیتے ہوئے کہا، “20 فیصد یقیناً بہت زیادہ ہے، ہم مناسب فیس چارج کریں گے۔”
واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر 20 فیصد معاوضے کے اعلان کی مخالفت کر دی ہے۔
اقوام متحدہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کارگو پر 20 فیصد معاوضہ وصول کرنے کے اعلان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے استعمال ہونے والے کسی بھی بحری راستے پر فیس عائد کرنے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔
اقوام متحدہ کی شپنگ ایجنسی کے ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی بحری راستوں سے گزرنے پر لازمی ٹول ٹیکس یا کسی بھی قسم کی فیس نافذ کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔
ہر جہاز سے 20فیصد معاوضہ لیں گے؛ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان
ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ اس اصول کی حامی ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے استعمال ہونے والے بحری راستے آزاد اور بلا رکاوٹ رہنے چاہئیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کارگو پر 20 فیصد معاوضہ وصول کرنے کے اعلان کی مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس کے بعد اس معاملے پر مزید مؤقف اختیار کیا جائے گا۔
