پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی اور ملک میں نئی اسٹیل ملز کے قیام کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت نے اس منصوبے کیلئے ایک روسی کمپنی کے ساتھ ابتدائی روڈ میپ طے کر لیا ہے، جبکہ مجوزہ منصوبوں کیلئے 700 ایکڑ قیمتی اراضی کی بھی نشاندہی کر دی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار نئی اسٹیل ملز کے قیام یا پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کیلئے روسی کمپنی ایم ایس انڈسٹریل انجینئرنگ کارپوریشن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز ایک قومی اثاثہ ہے اور اس کی بحالی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز اور روسی کمپنی کے درمیان دو اہم پروٹوکولز پر دستخط ہو چکے ہیں، جبکہ ایک اور روسی ادارے ایم ایس میٹ پرام گروپ نے بھی وزارت صنعت سے رابطہ کر کے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی اور پیداواری سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے بریفنگ دی ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس پر 99 فیصد چھوٹ کی تجویز
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ روسی کمپنی نے اسٹیل ملز کی بحالی اور نئے پلانٹ کی تعمیر کیلئے چار مختلف مراحل پر مشتمل منصوبہ پیش کیا ہے۔ ان مراحل میں موجودہ انفراسٹرکچر کا جائزہ، تکنیکی بحالی، جدید پیداواری یونٹس کی تنصیب اور مکمل تجارتی پیداوار کا آغاز شامل ہے۔
ہارون اختر خان کا کہنا ہے کہ حکومت اسٹیل ملز کی مکمل بحالی اور نئے صنعتی یونٹس کے قیام سمیت مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فنڈنگ، سرمایہ کاری کے حجم اور غیر ملکی کمپنیوں کی ذمہ داریوں سے متعلق حتمی فیصلے ابھی ہونا باقی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے آئندہ مالی سال کیلئے پاکستان اسٹیل ملز کیلئے ساڑھے تین ارب روپے مختص کیے ہیں، تاہم نئے وفاقی بجٹ میں اسٹیل ملز کی بحالی کیلئے الگ سے کوئی ترقیاتی فنڈ مختص نہیں کیا گیا۔
اس کے باوجود حکومت اور روسی کمپنیوں کے درمیان جاری مذاکرات کو پاکستان کی بھاری صنعت کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں صنعتی پیداوار، روزگار کے مواقع اور ملکی معیشت کو تقویت ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
