دنیا بھر میں خواتین کی بڑھتی ہوئی معاشی خودمختاری اور مردوں سے زیادہ کمانے کا رجحان جہاں صنفی برابری کی جانب ایک اہم قدم ہے، وہیں اس کے مردوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
بی بی سی نے مختلف تحقیقی مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ جب خواتین گھر کی بنیادی کفیل بن جاتی ہیں تو کئی مرد خود کو کمزور یا غیر مؤثر محسوس کرنے لگتے ہیں، کیونکہ روایتی طور پر مرد کو گھر کا کفیل سمجھا جاتا رہا ہے۔
کچھ مردوں نے بتایا کہ بیوی کے زیادہ کمانے سے ان کی “انا” متاثر ہوتی ہے اور سماجی دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے۔ بعض کو دوستوں اور خاندان کی جانب سے طعنے سننے پڑتے ہیں، جس سے ان کی خود اعتمادی اور ذہنی سکون متاثر ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مردوں کا دماغ خواتین سے زیادہ تیزی سے کمزور ہوتا ہے، نئی تحقیق
ماہرین کا کہنا ہے کہ آمدنی اور طاقت کا گہرا تعلق ہے، اور جب مرد اس روایتی کردار میں نہیں رہتے تو انہیں بے اختیاری کا احساس ہو سکتا ہے، جو ڈپریشن یا ازدواجی مسائل تک لے جا سکتا ہے۔
تاہم اس بدلتے رجحان کے مثبت پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق ایسے گھروں میں جہاں مرد گھر پر زیادہ وقت دیتے ہیں، وہ بچوں کے ساتھ بہتر تعلق قائم کرتے ہیں اور خاندان میں ذمہ داریوں کی تقسیم زیادہ متوازن ہو سکتی ہے۔
مزید یہ کہ خواتین کی مالی خودمختاری انہیں فیصلوں میں زیادہ اختیار دیتی ہے، جس سے معاشرے میں طاقت کا توازن بہتر ہو سکتا ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معاشرے کو مردانگی (masculinity) کے روایتی تصورات پر نظرثانی کرنی چاہیے اور مردوں کو نئے کرداروں کے مطابق خود کو ڈھالنے میں مدد فراہم کرنی چاہیے۔
