بھارت کے سابق بین الاقوامی کرکٹ امپائر وی وکرم راجو 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
کرناٹکا اسٹیٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (کے ایس سی اے) کے مطابق وی وکرم راجو نے اتوار کے روز بنگلورو میں آخری سانس لی۔ ان کے انتقال پر کرکٹ حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

وکرم راجو کا شمار بھارت کے تجربہ کار امپائرز میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران 2 ٹیسٹ، 5 ایک روزہ بین الاقوامی (ون ڈے) اور 42 فرسٹ کلاس میچز میں امپائرنگ کے فرائض انجام دیے۔ تاہم انہیں سب سے زیادہ شہرت 1986 میں بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے تاریخی ٹائیڈ(برابر) ٹیسٹ کی وجہ سے ملی۔
چنئی کے ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم میں 18 سے 22 ستمبر 1986 تک کھیلا گیا یہ میچ کرکٹ کی تاریخ کا دوسرا ٹائیڈ(برابر) ٹیسٹ تھا۔ اس سے قبل صرف 1960 میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان برسبین میں کھیلا گیا ٹیسٹ میچ برابر رہا تھا۔
اس یادگار مقابلے میں بھارت کو جیت کے لیے 348 رنز درکار تھے، تاہم میزبان ٹیم 347 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی اور میچ سنسنی خیز انداز میں برابر ختم ہوا۔ میچ کا اختتام اس وقت ہوا جب وکرم راجو نے بھارتی نمبر 11 بلے باز منیندر سنگھ کو آسٹریلوی اسپنر گریگ میتھیوز کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار دیا۔

اس فیصلے پر اس وقت شدید بحث ہوئی تھی اور وکرم راجو کو تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم یہ لمحہ آج بھی کرکٹ کی تاریخ کے یادگار ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس میچ میں ان کے ساتھ دارا دوٹی والا بھی آن فیلڈ امپائر تھے۔
کرناٹکا اسٹیٹ کرکٹ ایسوسی ایشن نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ وکرم راجو نے کئی دہائیوں تک دیانت داری، وقار اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ کرکٹ کی خدمت کی۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
امپائرنگ سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وکرم راجو کرکٹ سے وابستہ رہے اور بطور میچ ریفری مختلف فرسٹ کلاس مقابلوں اور کرناٹکا پریمیئر لیگ، جو اب کے ایس سی اے مہاراجہ ٹی ٹوئنٹی ٹرافی کے نام سے جانی جاتی ہے، میں ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔
