وزیر دفاع خواجہ آصف نے جموں و کشمیر سے متعلق گمراہ کن اور جھوٹے بھارتی بیانیہ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو جارحانہ بیانات اور سیاسی دباؤ کے ذریعے تبدیل نہیں کر سکتا۔
ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ ریمارکس کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات قانونی حقائق کو سیاسی پروپیگنڈے اور دھونس کے ذریعے مسخ کرنے کی ایک اور ناکام بھارتی کوشش ہے، گمراہ کن بھارتی بیانات نہ تو زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل کر سکتے ہیں اور نہ خطہ کے امن میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دہشتگردی کا منبع افغانستان ، امریکا سمیت سب ہمیں استعمال کرکے چلے گئے ، خواجہ آصف
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا ہے۔
India’s continued attempts to rewrite internationally recognised legal realities through coercive rhetoric cannot alter the facts. Pakistan categorically rejects the irresponsible remarks made by the Indian Defence Minister. Such statements reflect a continued attempt to distort…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) July 26, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے پاکستان پر بے بنیاد الزامات اس کے ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے ریکارڈ کے باعث ناقابلِ اعتبار ہیں، حقیقت یہ ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا میں دہشتگردی کی سب سے بڑی سرپرست ریاست اور عدم استحکام کا بنیادی محرک ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیرِ دفاع کے حالیہ بیانات ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی بحران اور مودی حکومت کیخلاف عوامی بے چینی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف جنگ لڑی جا رہی ہے، خواجہ آصف
وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت اپنے جارحانہ توسیع پسندانہ عزائم کے ذریعے پورے خطے کو یرغمال بنائے ہوئے ہے، بھارت کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی خطے میں بین الریاستی تصادم کی شدت اور خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن اور مذاکرات کی اپنی پالیسی پر قائم ہے، پاکستان کا اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے عزم غیر متزلزل ہے۔
