بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل کے مقامی بازار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سینیئر صحافی لالا اسرافیل خان جاں بحق ہو گئے ہیں۔
لالا اسرافیل عوامی مسائل، محرومیوں اور عام لوگوں کی آواز کو ایوانوں تک پہنچانے والے ایک نڈر اور بے باک صحافی تھے، جو ہم نیوز کے علاوہ دیگر میڈیا ہاؤسز کے لیے موسیٰ خیل سے رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب حملہ آوروں نے لالا اسرافیل کو دکان کے باہر نشانہ بنایا اور ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
موسیٰ خیل میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سےصحافی لالا اسرافیل جاں بحق ،،بلوچستان پولیس کے مطابق انہیں دوکان کے باہر فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا ،مقتول کو 6 گولیاں لگیں ،موقع پر جاں بحق ہوگئے،لالا اسرافیل ہم نیوز کے لئے بھی کام کرتے رہے۔۔۔ pic.twitter.com/INUZvXeoRN
— Ghazanfar Abbas (@ghazanfarabbass) June 7, 2026
جائے وقوعہ پر موجود مقتول کے چھوٹے بھائی کے مطابق مسلح افراد لالا اسرافیل پر فائرنگ کرنے کے بعد ڈاکٹرز والی گلی کی جانب فرار ہو گئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کرکے کارروائی کا آغاز کر دیا۔
ایس ایچ او محمد خان کے مطابق لالا اسرافیل کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے سول ہسپتال منتقل کر دی گئی ہے
ان کا کہنا ہے کہ پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی نجی ٹی وی کیلئے موسیٰ خیل سے کام کرنے والے صحافی لالا اسرافیل کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت واقعہ کی شفاف اور جامع تحقیقات کا مطالبہ
کوئٹہ(پریس ریلیز)
بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے نجی ٹی وی کیلئے موسی خیل سے کام کرنے والے صحافی لالا اسرافیل کے قتل… pic.twitter.com/cdaTik5KM1— Afzal Butt (@Afzalbutt01) June 6, 2026
صحافی لالا اسرافیل کی شہادت سے نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ صحافتی برادری اور پورا موسیٰ خیل غم میں ڈوب گیا ہے۔
مقامی شہریوں نے اس المناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لالا اسرافیل ایک مخلص عوام دوست اور پیشہ ور صحافی تھے جنہوں نے ہمیشہ حق اور سچ کی آواز بلند کی، ان کی شہادت موسیٰ خیل کے لیے ایک بڑا نقصان ہے اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گے۔
ڈاکٹر ماہ نور کے تیزاب پھینکنے پر سب سے پہلے صحافیوں نے آواز اٹھایا، مگر اس ہی دن صحافی لالا اسرافیل کو شہید کردیا گیا ان کیلئے سب خاموش ہیں۔ خدارا ان کیلئے آواز اٹھاؤ ان کے قاتلوں کے گرفتار کرکے خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔#JournalismIsNotACrime pic.twitter.com/zv5ShAVFu8
— Dauran Baloch (@dauranbaloch1) June 7, 2026
بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (بی یو جے) نے ان کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یونین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قتل کی فوری اور شفاف تفتیش کرائی جائے، قتل کے اصل محرکات اور مقاصد کا پتا لگایا جائے اور ملوث عناصر کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے خلاف پرتشدد واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 2025 کے دوران ملک بھر میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کے کم از کم 137 مصدقہ واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 8 صحافیوں کا قتل بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ گزشتہ سال صحافیوں پر جسمانی تشدد اور بدتمیزی کے 35 واقعات، فرائض کی ادائیگی کے دوران 2 صحافیوں کے زخمی ہونے، 5 کو حراست میں لیے جانے، 2 کے اغوا اور میڈیا ہاؤسز یا املاک پر چھاپوں اور حملوں کے 4 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
