27 سالہ نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد کے پوش علاقے میں واقع گھر میں قتل کیا گیا تھا۔
اس کیس میں جرم ثابت ہونے پر اسلام آباد کی مقامی عدالت نے 24 فروری 2022 کو ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی تھی۔
ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے بعد مجرم ظاہر جعفر نے سزا کالعدم قرار دینے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا ، ہائی کورٹ نے ظاہر جعفر کے ریپ کے جرم میں 25 سال قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔
نور مقدم قتل کیس: مجرم ظاہر جعفر دماغی طور پر صحت مند قرار
بعد ازاں مجرم نے سپریم کورٹ میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی جسے 20 مئی 2025 کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
بعد ازاں مجرم نے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کی تھی ،جسے سپریم کورٹ نے خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
