عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی کمزوری اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہے، جبکہ سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ کشیدگی میں کمی کا جائزہ لے رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 4,464.69 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.6 فیصد اضافے سے 4,491.70 ڈالر پر ٹریڈ ہوئے۔
ماہرین کے مطابق ڈالر کی قدر میں کمی سے سونا دیگر کرنسی رکھنے والوں کے لیے سستا ہو جاتا ہے، جس سے اس کی طلب بڑھتی ہے۔ تجزیہ کار ٹم واٹرر کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتیں اب بھی تیل اور ڈالر پر بہت زیادہ انحصار کر رہی ہیں۔
ادھر اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کی امیدوں کو تقویت دی ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔
دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے، جو اس تنازع پر بڑھتی سیاسی تشویش کو ظاہر کرتی ہے۔
نیویارک فیڈرل ریزرو کے صدر جان ولیمز نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے مہنگائی پر پڑنے والے اثرات طویل مدتی نہیں ہوں گے، اس لیے فوری طور پر مانیٹری پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ سونے کی قیمتوں میں طویل مدتی اضافہ متوقع ہے، تاہم سال کے اختتام تک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
دوسری قیمتی دھاتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جہاں چاندی کی قیمت 1 فیصد بڑھ کر 73.44 ڈالر فی اونس ہو گئی، جبکہ پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
