تہران: ایرانی فوج کے سینئر عہدیدار بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ یا دھمکیوں کے ذریعے نہیں کھلے گی۔ امریکا کو عالمی قوانین اور ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت یا معاہدوں کی مبینہ خلاف ورزی کو قبول نہیں کرے گا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران نے ایک معاہدے کے تحت عارضی طور پر 60 روز کے لیے ٹول فری آمدورفت کی اجازت دی تھی، تاہم امریکا نے مبینہ طور پر دھوکا دہی کے ذریعے وہاں غیر قانونی راستہ بنانے کی کوشش کی، جسے ایران نے ناقابل قبول قرار دیا۔
ایران فوج کے سینئر عہدیدار بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ امریکا ایران کے حقوق کا احترام کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج قومی خودمختاری اور حقوق کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پک ایکس ماؤنٹین جوہری مرکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی۔
قدامت پسند ریڈیو میزبان ہیو ہیوٹ کو انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں مزید دو سے تین ہفتے جاری رہ سکتی ہیں۔ ٹرمپ نے ایران کے انتہائی محفوظ جوہری مرکز کوہ کولانگ گاز لا جسے پک ایکس ماؤنٹین بھی کہا جاتا ہے کو ممکنہ ہدف قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے بحرین اور کویت میں امریکی بحری بیڑے اور فوجی اڈوں پر حملے ، ایندھن کے ذخائر میں آتشزدگی
ان کا کہنا تھا کہ ہم پک ایکس ماؤنٹین کو تباہ کر دیں گے، ایرانیوں سے کہہ دیں تیار رہیں وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔
