وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔
اس بات کا اظہار انہوں نے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔
وفد میں میاں محمد منشاء، عارف حبیب، عاطف باجوہ، محمد علی تبہ، مصدق ذوالقرنین، زیاد بشیر، شہزاد سلیم، زیلاف منیر، عمر سعید، عمر منشاء، یوسف سعید، کامران ارشد، خرم مختار، آصف پیر، سلطان گوہر اعجاز، فواد انور، ذوالفقار حیات، جاوید اقبال، یوسف حسین، عامر ابراہیم، خواجہ مسعود اختر اور اعجاز نبی شامل تھے۔
یہ ملاقات ملک کی مجموعی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور مالی سال 27-2026 کے بجٹ کے حوالے سے کاروباری برادری سے مشاورت کے تناظر میں منعقد ہوئی۔
وزیراعظم نے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری پاکستان کے سفیر اور دنیا میں ملک کی پہچان ہے۔
انہوں نے مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر تاجر برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری ہی معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کے لیے تکنیکی و فنی تربیت کے پروگراموں اور صنعت، زراعت و آئی ٹی کے شعبوں میں ترقی کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات کے دوران وفد کو کاروبار، صنعت و تجارت کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات جلد نمٹانے کے لیے ٹیکس ٹریبونلز میں شفاف بھرتیاں کر کے اصلاحات کی گئی ہیں اور اسپیشل کمرشل کورٹس کے قیام کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی کے لیے موٹر وے ایم-10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے۔
لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ کم کرنے کے لیے موٹر وے ایم-13 (کھاریاں-راولپنڈی) کی تعمیر، ریلوے انفراسٹرکچر کے لیے ایم ایل ون اور ایم ایل ٹو کی اپ گریڈیشن، اور نیشنل اے آئی ٹرانسفارمیشن پلان کی تشکیل جیسے اہم منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔
مزید برآں، شوگر اور سیمنٹ سیکٹر میں ویڈیو اینالیٹکس کی تنصیب سے ریونیو میں بہتری آئی ہے۔
کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم کی قیادت میں معاشی بحالی کے سفر، بہتر مالیاتی انتظام، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے حکومتی وژن پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
وفد نے ٹیکس اصلاحات، صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ لیوی کے خاتمے اور ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگیوں پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور بجٹ کے لیے اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کا عزم ظاہر کیا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، مصدق ملک، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ، علی پرویز ملک، سردار اویس احمد لغاری، بلال اظہر کیانی، ہارون اختر خان، اٹارنی جنرل منصور اعوان، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
