پاکستان کے نامور مزاحیہ اداکار ننھا کو مداحوں سے بچھڑے آج 40 برس بیت گئے تاہم وہ آج بھی اپنے مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
ساہیوال میں 1942 میں آنکھ کھولنے والے رفیع خاور جنہیں دنیا “ننھا” کے نام سے جانتی ہے، پاکستانی فلم اور ٹیلی ویژن کے وہ درخشاں ستارے تھے جنہوں نے تقریباً دو دہائیوں تک اپنے فن کے جادو سے ناظرین کو محظوظ کیا۔
ان کی معصوم شخصیت ، منفرد اندازِ گفتگو اور بے ساختہ مزاح نے انہیں اپنے دور کے دیگر فنکاروں سے الگ شناخت دی۔ یہی انفرادیت انہیں بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر طبقے میں بے حد مقبول بناتی رہی۔
ننھا اپنی منفرد اداکاری، برجستہ مکالموں اور شاندار مزاحیہ کرداروں کے باعث شہرت کی بلندیوں تک پہنچے۔ انہوں نے اسٹیج، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور فلم کے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
ننھا نے متعدد یادگار ڈراموں اور فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے، تاہم ان کی شہرت کا سب سے بڑا سبب مشہور مزاحیہ سیریز الف نون رہی، جس میں انہوں نے “ننھا” کا کردار ادا کیا اور یہی نام ان کی پہچان بن گیا۔
ننھا نے اپنے فلمی کیریئر میں متعدد سپر ہٹ فلموں کے ذریعے شائقین کے دل جیتے۔ ’’سوہرا تے جوائی‘‘، ’’سالا صاحب‘‘، ’’نوکر تے مالک‘‘، ’’نمک حلال‘‘، ’’تیری میری اک مرضی‘‘ اور ’’مہندی‘‘ ان کی یادگار فلموں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان میں ’’سالا صاحب‘‘ کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی، جس نے لاہور کے سینما گھروں میں مسلسل 300 ہفتوں تک نمائش کا تاریخی اعزاز اپنے نام کیا۔ یہ ریکارڈ آج بھی پاکستانی فلمی صنعت کی تاریخ میں ایک نمایاں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستانی شوبز انڈسٹری کے اس عظیم فنکار کا انتقال 2 جون 1986 کو ہوا۔ ان کے انتقال کے باوجود ان کی فنکارانہ خدمات اور لازوال کردار آج بھی شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔
بھارتی اداکارہ جیکولین فرنانڈس پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ
ننھا کو دنیا سے رخصت ہوئے چار دہائیاں بیت چکی ہیں، تاہم ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کی گونج آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ ان کے ادا کیے گئے کردار اور مزاحیہ انداز ناظرین کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں، جبکہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہے گا۔
فن و ثقافت سے وابستہ شخصیات اور مداحوں نے ننھا کی 40ویں برسی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
