اسٹریپسلز(strepsils) کی گمراہ کن مارکیٹنگ پرکمپٹیشن اپیلیٹ ٹریبونل نے سی سی پی کا جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا، کمپنی تین کروڑ روپے جرمانہ ادا کرے گی۔
کمپٹیشن اپیلیٹ ٹریبونل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ریکٹ بینکائزر نے صارفین کو مصنوعات کی نوعیت کے بارے میں گمراہ کیا، ریکٹ بینکائزر نے کمپٹیشن ایکٹ کی دفعہ 10(2)(ب) کی خلاف ورزی کی۔
سی سی پی نے 2 بروکریج ہاؤسز کے انضمام کی منظوری دیدی
اسٹریپسلز کو دوا کے طور پر پیش کیا گیا حالانکہ یہ نان میڈی کیٹڈ پروڈکٹ تھی اور اسٹریپسلز اس وقت فوڈ آئٹم کے طور پر رجسٹرڈ ہے۔
ٹریبونل نے مزید کہا کہ کمیشن کی کارروائی کے بعد کمپنی نے پیکجنگ اور انتباہات میں نمایاں تبدیلیاں کیں، اب ’’نان میڈی کیٹڈ‘‘ کا انتباہ اردو اور انگریزی میں نمایاں طور پر درج کیا جا رہا ہے جبکہ پہلے نان میڈی کیٹڈ ہونے کی معلومات کم نمایاں انداز میں فراہم کی جاتی تھیں۔
ٹریبونل نے کمپنی کو اسٹریپسلز کی حیثیت دوا سے فوڈ پروڈکٹ میں تبدیلی کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے کہ کمپنی کم از کم تین اردو اور تین انگریزی اخبارات میں اشتہارات شائع کرے گی، مکمل تعمیل تک اسٹریپسلز سے متعلق وضاحتی اشتہارات ہفتہ وار شائع کیے جائیں گے۔
سی سی پی کا بغیر ڈسکلیمر مشروبات کے اشتہارات کا نوٹس
کمپٹیشن اپیلیٹ ٹریبونل نے کہا ہے کہ سی سی پی صارفین کو گمراہ کن مارکیٹنگ سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، یہ فیصلہ، اشتہارات میں شفافیت اور صارفین کے باخبر انتخاب کے حق کو مضبوط بناتا ہے۔
