کراچی: سندھ میں رواں سال خسرہ کے باعث 53 بچوں کے جاں بحق ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں سال 2026 کے پہلے 26 ہفتوں کے دوران خسرے کے باعث مجموعی طور پر 102 اموات رپورٹ کی گئی ہیں۔
سندھ میں خسرہ کے 7 ہزار 105 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 2 ہزار 280 کیسز کی لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے تصدیق کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں خسرہ کے 29 ہزار 66 مشتبہ کیسز سامنے آئے، جبکہ 8 ہزار 309 کیسز کی لیبارٹری سے تصدیق ہو چکی ہے۔
دوسری جانب ماہرین صحت نے خسرہ کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیماری پر قابو پانے کے لیے بروقت ویکسینیشن، مؤثر نگرانی اور ہنگامی حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر حفاظتی ٹیکوں کی کوریج بہتر نہ بنائی گئی اور فوری احتیاطی اقدامات نہ کیے گئے تو خسرہ کے کیسز اور اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت ویکسین اور ادویات کی تیاری کے فروغ کیلیے ہر ممکن سہولیات فراہم کررہی ہے، وفاقی وزیرصحت
واضح رہے کہ خسرہ ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے۔ جو کھانسی، چھینکنے یا متاثرہ شخص کے قریب رہنے سے ہوا کے ذریعے تیزی سے پھیلتی ہے۔ اس کی عام علامات میں تیز بخار، کھانسی، ناک بہنا، آنکھیں سرخ ہونا اور چہرے سے شروع ہو کر پورے جسم پر سرخ دانوں کا نکلنا شامل ہے۔
