ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مینریلز تھیراپیوٹکس کی تیار کردہ تجرباتی دوا لورونڈروسٹیٹ گردوں کے دائمی مرض میں مبتلا افراد میں بلڈ پریشر کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
یہ نتائج یورپ میں ہونے والی ایک بڑی طبی کانفرنس میں پیش کیے گئے، جہاں بتایا گیا کہ اس دوا کا جائزہ ایک لیٹ اسٹیج ٹرائل میں لیا گیا جس میں 800 ایسے مریض شامل تھے جن کا بلڈ پریشر قابو میں نہیں آ رہا تھا۔
تحقیق کے مطابق گردوں کے مرض میں مبتلا 192 مریضوں میں 12 ہفتوں کے دوران سسٹولک بلڈ پریشر میں اوسطاً 9.6 ملی میٹر مرکری تک کمی دیکھی گئی، جبکہ دیگر مریضوں میں یہ کمی 12.2 ملی میٹر مرکری رہی۔
ماہرین کے مطابق یہ نتائج نہ صرف شماریاتی طور پر اہم ہیں بلکہ طبی لحاظ سے بھی معنی خیز ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ ان مریضوں میں سے 71 فیصد پہلے ہی تین یا اس سے زیادہ بلڈ پریشر کی ادویات استعمال کر رہے تھے۔
دوا نے پیشاب میں موجود ایک اہم پروٹین “البیومن” کی سطح کو بھی نصف سے زیادہ کم کیا، جو گردوں کو پہنچنے والے نقصان کی بڑی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دائمی گردوں کی بیماری دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہے اور اس کا گہرا تعلق ہائی بلڈ پریشر سے ہے، جو دل کے امراض اور قبل از وقت اموات کی بڑی وجہ بھی ہے۔
یہ دوا جسم میں الڈوسٹیرون نامی ہارمون کی پیداوار کو روک کر کام کرتی ہے، جو بلڈ پریشر بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرز کی ایک اور دوا بیکسفینڈی کو حال ہی میں امریکا میں منظوری دی گئی ہے۔
لورونڈروسٹیٹ اس وقت امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن میں منظوری کے مراحل میں ہے اور اس پر فیصلہ دسمبر تک متوقع ہے۔
