اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو تمباکو نوشی کے باعث ہر سال 6.6 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچتا ہے۔ جبکہ تقریباً ایک لاکھ 64 ہزار افراد تمباکو سے جڑی بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار دیتے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق ملک میں مجموعی معاشی نقصان کا تخمینہ تقریباً ایک ہزار 800 ارب روپے سالانہ لگایا گیا ہے۔ جبکہ حکومت کو تمباکو کی صنعت سے قریب 265 ارب روپے ٹیکس کی مد میں حاصل ہوتے ہیں، جو مجموعی نقصان کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی کا رجحان بچوں اور نوجوانوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ 13 سے 15 سال کی عمر کے تقریباً 4 کروڑ بچے تمباکو نوشی کا آغاز کرتے ہیں، جن میں بڑی تعداد سگریٹ، نسوار اور ویپ جیسی مصنوعات استعمال کرتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تمباکو کے عادی افراد میں سے تقریباً 50 فیصد کو دل کے امراض، کینسر، پھیپھڑوں کی بیماریوں اور فالج جیسے خطرناک مسائل کا سامنا رہتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے سفارش کی ہے کہ تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے سگریٹ پر ٹیکس میں مزید اضافہ کیا جائے اور مؤثر عوامی آگاہی مہمات چلائی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: عیدالاضحیٰ: شدید گرمی میں قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کے اہم طریقے
رپورٹ میں یہ بھی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ رواں سال 31 مئی کو پاکستان میں تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن منایا جائے گا۔
