واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کے قریب درجنوں گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں جس پر امریکی سیکرٹ سروس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس کے نارتھ لان کو خالی کرا لیا گیا جبکہ صحافیوں کو فوری طور پر شیلٹر میں جانے کی ہدایت دی گئی۔ سیکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے اسنائپرز کو وائٹ ہاؤس کی چھت پر تعینات کر دیا گیا۔
امریکی سیکرٹ سروس کے بیان کے مطابق پنسلوانیا ایونیو کے علاقے میں ایک شخص نے بیگ سے ہتھیار نکال کر فائرنگ شروع کی، جس پر خفیہ سروس پولیس نے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں مشتبہ حملہ آور زخمی ہوا جسے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں بعد ازاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ کے دوران ایک راہگیر بھی زخمی ہوا تاہم کسی سیکیورٹی افسر کو نقصان نہیں پہنچا۔ واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود تھے جنہیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
امریکا اور ایران معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بہت زیادہ قریب ہیں، ٹرمپ
بعد ازاں صدر ٹرمپ کو واقعے پر مکمل بریفنگ بھی دے دی گئی۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت اور حملہ آور کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
