کراچی میں منشیات کے مقدمات میں گرفتار ہونے والی انمول عرف پنکی کے مبینہ رابطہ نیٹ ورک کی ایک حساس تحقیقاتی رپورٹ منظرِ عام پر آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ سامنے آنے کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور کراچی کے سرکاری، سفارتی اور قانون نافذ کرنے والے حلقوں میں اس وقت تشویش کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے،
مبینہ طور پر لیک ہونے والی اس رپورٹ، دستیاب ڈیٹا اور اسپریڈ شیٹ کے ابتدائی جائزے سے یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ یہ محض چند فون نمبرز کی عام فہرست نہیں، بلکہ ایک انتہائی وسیع اور بااثر نیٹ ورک کا خاکہ ہے۔
اس نیٹ ورک میں اعلیٰ بیوروکریٹس، اہم سفارتی شخصیات اور مختلف شہروں کے بااثر حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے قریبی روابط اور نمبرز سامنے آئے ہیں۔
دوسری جانب، معاملے کی سنگینی اور بین الاقوامی روابط کو دیکھتے ہوئے کراچی پولیس نے اس کیس میں باقاعدہ طور پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے مدد مانگ لی ہے۔
پولیس حکام کا ماننا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ اور اس نیٹ ورک کے تانے بانے بڑے پیمانے پر غیر قانونی سرمائے کی منتقلی سے جڑے ہو سکتے ہیں، اسی لیے ایف آئی اے کو منی لانڈرنگ اور سائبر کرائمز کے قوانین کے تحت اس پورے نیٹ ورک کی باریک بینی سے تحقیقات کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ اس کے پیچھے چھپے اصل کرداروں کو بے نقاب کیا جا سکے۔
