پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما اور سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک مبینہ منشیات کیس کے ویڈیو کلپ پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 18 مئی 2026 کو ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں ایک منشیات فروش خاتون ان کا نام لے رہی تھی، تاہم بعد میں اسی خاتون نے اعتراف کیا کہ اس سے یہ جھوٹا بیان زبردستی دلوایا گیا تھا۔
Former Speaker/MNA Raja Pervez Ashraf expresses his views during the National Assembly Session.#NASesion @RPAPPP pic.twitter.com/A8qjwgUVw0
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) May 20, 2026
سابق وزیرِ اعظم نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ سن کر دنگ رہ گئے کہ آخر یہ کون سے راجہ پرویز اشرف ہیں جن کا نام اس کیس میں گھسیٹا جا رہا ہے۔
انہوں نے ایوان سے پرزور مطالبہ کیا کہ جب تک کسی بھی مقدمے کی تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں، اسے سوشل میڈیا یا عوامی سطح پر بحث کے لیے نہ لایا جائے، کیونکہ ہر پاکستانی کا یہ بنیادی حق ہے کہ مکمل تفتیش اور جرم ثابت ہونے سے پہلے اسے مجرم قرار نہ دیا جائے۔
دوسری جانب کراچی پولیس چیف آزاد خان نے بھی واضح کیا ہے کہ لاہور کے بڑے نام پنکی کیساتھ منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہیں تاہم راجہ پرویز اشرف سے متعلق ایسی کوئی بات نہیں۔
