واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ لیکن ایران کو کسی صورت افزودہ یورینیم رکھنے نہیں دیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس وقت ہم ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ تاہم امریکا آبنائے ہرمز پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس نہیں چاہتا۔ ہم اپنا مقصد کسی نہ کسی طرح حاصل کر لیں گے۔
انہوں ںے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ اور امریکا ایران کو افزودہ یورینیم رکھنے کی کسی صورت اجازت نہیں دے گا۔ ہم افزودہ یورینیم حاصل کر لیں گے۔ تاہم ہمیں افزودہ یورینیم کی ضرورت نہیں ہے۔
چین سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ شی جنگ پنگ کے ساتھ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے سیف گارڈز پر بھی بات ہوئی ہے۔ مصنوعی ذہانت سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر منسوخ کر دیا گیا کیونکہ کچھ چیزیں اچھی نہیں تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: فلوٹیلا کارکنان سے بدسلوکی کی ویڈیو وائرل، عالمی برادری کا اسرائیل سے معافی کا مطالبہ
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ یورینیم کے ذخائر کو بیرون ملک منتقل کرنا ایران کو ممکنہ حملوں اور دباؤ کے مقابلے میں کمزور بنا سکتا ہے۔
