اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے دو پرانے ایڈہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھنا اور ان کی مالی مشکلات میں کمی لانا ہے۔
سال 2022 کا 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس اور سال 2025 کا 10 فیصد ایڈہاک الاؤنس اب مستقل طور پر بنیادی تنخواہ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں نمایاں اضافہ ہو گا۔ جس کے اثرات مستقبل میں ملنے والی مراعات، پنشن اور دیگر الاؤنسز پر بھی مرتب ہوں گے۔
مزید برآں وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس (سفری الاؤنس) میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور روزمرہ سفری اخراجات میں اضافے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے تاکہ ملازمین کو مالی سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی شرح میں ردو بدل کر دیا گیا
حکام کے مطابق ان اقدامات سے ملازمین کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔ جبکہ بنیادی تنخواہ بڑھنے کے باعث ہاؤس رینٹ سمیت دیگر مراعات کا حجم بھی خود بخود بڑھ جائے گا۔ حکومت نے اسے موجودہ معاشی حالات میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ایک اہم ریلیف قرار دیا ہے۔
