سلہٹ میں پوسٹ میچ پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی ٹیم کے کپتان شان مسعود نے کہا کہ ٹیم نے دونوں ٹیسٹ میچز میں کئی غلطیاں کیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔
قومی ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ جب کوئی ٹیم ٹیسٹ میچ جیتنے کی پوزیشن میں جاتی ہے تو بیٹرز کو سنچریاں بنانا پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تین کھلاڑی سنچری کرنے کی پوزیشن میں تھے لیکن وہ بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
View this post on Instagram
شان مسعود نے کہا کہ رضوان اورآغا کی پارٹنرشپ ٹیم کو میچ جتوا سکتی تھی جب کہ رضوان اور ساجد کی شراکت بھی اچھی رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ٹیم کو بہتری کے لیے زیادہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہے اور ہر ملک کے خلاف کم از کم تین سے چار ٹیسٹ میچز کی سیریز ہونی چاہیے۔
قومی ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ سلہٹ ٹیسٹ کی وکٹ آخری روز بھی بیٹنگ کے لیے سازگار تھی جب کہ بنگلہ دیش میں دونوں وینیوز پر بہترین پچز اور اچھے مقابلے دیکھنے کو ملے۔
شان مسعود نے کہا کہ کھلاڑیوں کے درمیان جو بھی معاملات ہوئے ان کا نوٹس لینا متعلقہ اتھارٹیز کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے 18 سال کا کھلاڑی ہو یا 40 سال کا پاکستان کو اپنی ٹیسٹ کرکٹ بہتر بنانے پر توجہ دینا ہوگی۔
کپتان نے کہا کہ ان کی نیت صاف ہے اور انہوں نے کپتانی ٹیسٹ کرکٹ کو بہتر کرنے کے عزم کے ساتھ قبول کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ کے ساتھ مختلف معاملات پر بات چیت ہوتی رہتی ہے جبکہ کپتانی دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ہمیشہ بورڈ ہی کرتا ہے۔
قومی کپتان نے مزید کہا کہ چیلنجز ہمیشہ قبول کرنے چاہئیں اور انہوں نے ہمیشہ فخر کے ساتھ پاکستان کی جرسی پہنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپتانی کے علاوہ بھی ہر ذمہ داری میں بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
