امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کا دورہ مکمل کر لیا، جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ “شاندار تجارتی معاہدے” طے پانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ان معاہدوں کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ٹرمپ بیجنگ اس مقصد کے ساتھ پہنچے تھے کہ زراعت، ہوا بازی اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں معاہدے کیے جائیں، جبکہ ایران جنگ، تائیوان اور دیگر حساس جغرافیائی و سیاسی معاملات پر اختلافات کم کیے جائیں۔
دورے کے دوران ٹرمپ نے شی جن پنگ کو “عظیم رہنما” اور “دوست” قرار دیا، تاہم چینی صدر کی جانب سے ردعمل نسبتاً محتاط رہا۔ شی جن پنگ نے اس دورے کو “سنگِ میل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان “تعمیری اسٹریٹجک استحکام” پر مبنی نئے تعلقات قائم ہو رہے ہیں۔

ایران جنگ کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ شی جن پنگ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ چین تہران کو فوجی مدد فراہم نہیں کرے گا اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی حمایت کرتا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے بھی جنگ بندی اور عالمی بحری راستوں کی بحالی پر زور دیا ہے۔
دوسری جانب تائیوان کے معاملے پر شی جن پنگ نے خبردار کیا کہ کسی بھی غلط قدم سے امریکا اور چین کے درمیان تصادم ہو سکتا ہے، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر واشنگٹن کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
تجارتی معاملات میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین 200 بوئنگ طیارے خریدنے پر آمادہ ہو گیا ہے، جبکہ امریکی تیل اور سویابین کی خریداری میں بھی دلچسپی ظاہر کی گئی ہے، تاہم چینی حکام نے ان دعوؤں کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی دونوں ممالک کے درمیان “گائیڈ لائنز” بنانے پر بات چیت ہوئی، تاہم امریکی پابندیوں کے باعث جدید ٹیکنالوجی کی چین کو فراہمی بدستور ایک حساس مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان تعلقات میں بہتری کی کوششیں جاری ہیں، تاہم ایران، تائیوان اور ٹیکنالوجی جیسے معاملات اب بھی دونوں طاقتوں کے درمیان کشیدگی کا باعث ہیں۔
یاد رہے کہ یہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا چین کا پہلا دورہ تھا۔ دورے کے اختتام پر ٹرمپ بیجنگ سے روانہ ہو گئے، جہاں انہیں ایئر فورس ون میں سوار ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔
