ٹرمپ نے قطر، یو اے ای اور سعودی عرب کی درخواست پر ایران پر طے شدہ حملہ موخر کر دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران پر ایک بڑے فوجی حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی تاہم قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر اسے مؤخر کر دیا گیا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق امیرِ قطر، سعودی ولی عہد اور یو اے ای کے صدر نے اپیل کی کہ ایران پر حملہ روک دیا جائے کیونکہ ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور معاہدے کے امکانات روشن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ معاہدہ نہ صرف امریکا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک کے لیے بھی قابل قبول ہوگا، ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے امریکی وزیرِ جنگ اور افواج کے سربراہ کو ایران پر شیڈول حملہ روکنے کی ہدایت دی ہے۔
امریکا نے ایرانی تیل پر عائد پابندیاں ہٹانے پر آمادگی ظاہر کر دی ، رائٹرز کا دعویٰ
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہو سکا تو بڑے پیمانے پر حملے کی مکمل تیاری رکھی جائے، انہوں نے واضح کیا کہ ممکنہ معاہدے کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
