خلیج فارس، خلیج فارس کے علاقے میں کشتی سے متعلق ایک کشیدہ صورتحال سامنے آئی ہے جہاں ایران اور کویت کے درمیان سفارتی تناؤ بڑھ گیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کویت نے ایرانی کشتی پر کارروائی کرتے ہوئے 4 ایرانی شہریوں کو حراست میں لیا ہے جن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ اس جزیرے کے قریب پیش آیا جسے ایران کے مطابق امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔
ایران کے خلاف فتح کا لفظ استعمال کرنے سے جنرل ڈین کین کا گریز، سینیٹ میں سخت سوالات
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران اپنے شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے اور اس معاملے پر مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
دوسری جانب ایک روز قبل کویتی حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے 4 افراد کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ کویت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
واقعے کے بعد دونوں ممالک کے بیانات سے خطے میں سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ صورتحال پر عالمی سطح پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔
