کیا آپ یقین کریں گے کہ اس کرہِ ارض پر ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں انسان اپنی مرضی سے مر بھی نہیں سکتا؟
جی ہاں، ناروے کے دور افتادہ جزیرے ‘سوالبارڈ’ میں واقع شہر لانگیئر بائین میں 1950 سے ایک عجیب و غریب قانون نافذ ہے جس کے تحت یہاں ‘موت’ پر پابندی ہے۔
قبرستان ہے مگر دفنا نہیں سکتے
اس شہر میں ایک چھوٹا سا قبرستان موجود ہے، لیکن یہاں گزشتہ 70 سالوں سے کسی کو دفن نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ کوئی توہم پرستی نہیں بلکہ خالص سائنسی ہے۔
یہاں کی زمین ‘پرما فراسٹ’ (Permafrost) ہے، یعنی سال کے بارہ مہینے برف کی طرح جمی رہتی ہے۔ 1950 میں ماہرین نے دریافت کیا کہ یہاں دفن کی گئی لاشیں گلتی سڑتی نہیں ہیں بلکہ منجمد ہو جاتی ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ دہائیوں پرانے وائرس اور بیماریاں ان لاشوں میں زندہ رہ سکتی ہیں، جو پورے شہر کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
مرنے کے لیے ہجرت درکار
اگر کوئی شخص یہاں شدید بیمار ہو جائے یا اسے لگے کہ اس کا وقت قریب ہے، تو اسے فوری طور پر جہاز کے ذریعے ناروے کے دوسرے شہروں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ حادثاتی موت کی صورت میں بھی لاش کو یہاں دفن کرنے کے بجائے کہیں اور بھیج دیا جاتا ہے۔
یہاں رہنے والے 25 سو سے زائد افراد جانتے ہیں کہ انہیں زندگی تو یہاں گزارنی ہے، مگر ابدی نیند کے لیے کہیں اور جانا ہوگا۔
