وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کی وجہ لیوی ہے۔
عمر فاروق کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس ہوا، جس میں جنگ کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور حکومتی اقدامات پر وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بریفنگ دی۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ جنگ کے دوران وزیر اعظم کی ہدایت پر پیٹرولیم مصنوعات، ایل این جی اور ایل پی جی کے سٹاک کی مانیٹرنگ کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بروقت حکومتی اقدامات کے باعث ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا نہیں ہوئی۔
علی پرویز ملک کے مطابق سعودی عرب، قطر، ابوظہبی اور عمان نے متبادل راستوں سے سپلائی فراہم کی، جبکہ قطر سے ایل این جی سپلائی بھی بحال ہو چکی ہے اور ایک جہاز کل لنگر انداز ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل پر پریمیم 50 ڈالر تک بڑھنے سے قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت 110 ڈالر سے بڑھ کر 285 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ دبئی خام تیل کی قیمت بھی 97 ڈالر سے بڑھ کر 170 ڈالر تک ریکارڈ کی گئی۔
وزیر پیٹرولیم نے واضح کیا کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجہ لیوی ہے، جو آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بڑھانا پڑی۔ ان کے مطابق بجٹ کے وقت آئی ایم ایف سے 80 روپے فی لیٹر لیوی پر اتفاق ہوا تھا، تاہم بعد ازاں ہدف 160 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ یکم مارچ کو ملک میں خام تیل کا ذخیرہ 4 لاکھ 36 ہزار ٹن تھا جو اب بڑھ کر 5 لاکھ 15 ہزار ٹن ہو چکا ہے، جبکہ ڈیزل اور پیٹرول کے ذخائر میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل مہنگا، سونے کی قیمت میں بڑی کمی
اجلاس کے دوران سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے سوال اٹھایا کہ پرانے سٹاک پر فوری قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں اور آیا لیوی میں اضافے سے کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔ کمیٹی اراکین نے ملک میں کام کرنے والی او ایم سیز کے آڈٹ کا بھی مطالبہ کیا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت بحران کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے پر غور کر رہی ہے، جبکہ ناجائز منافع خوری کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔
