ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مفاہمتی مسودے کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔
رائٹرز کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا کو امریکا کے ساتھ مجوزہ مفاہمتی یادداشت کا ابتدائی غیر سرکاری مسودہ موصول ہوا ہے۔ جس میں خطے کی بحری سلامتی اور فوجی سرگرمیوں سے متعلق اہم نکات شامل ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مسودے میں امریکی افواج کی ممکنہ واپسی، بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت کو ایک ماہ کے اندر جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنے سے متعلق شقیں شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام ایران اور عمان کے تعاون سے چلایا جائے گا۔ جبکہ فوجی بحری جہاز اس انتظامی فریم ورک میں شامل نہیں ہوں گے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق فریقین نے تجارتی بحری سرگرمیوں کی بحالی پر ابتدائی اتفاق کیا ہے۔ تاہم اسلام آباد مفاہمتی فریم ورک تاحال حتمی طور پر طے نہیں پایا۔
مزید کہا گیا ہے کہ مجوزہ مسودے میں 60 دن کے اندر حتمی معاہدے کی صورت میں اسے سلامتی کونسل کی پابند قرارداد کی شکل دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کا مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈہ 2035 میں ہمیشہ کیلئے بند کردیا جائے گا
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کسی بھی معاہدے سے قبل عملی اور ٹھوس تصدیق کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ حتمی فیصلے سے قبل مختلف نکات پر مزید بات چیت جاری ہے۔
