پاکستان میں شدید گرمی کے پیش نظر ماہرین نے گاڑی مالکان اور خریداروں کے لیے اہم سمر ہدایات جاری کر دیں۔ جن کا مقصد گاڑیوں کو محفوظ، قابل استعمال اور خریداری سے پہلے درست حالت میں جانچنا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی گرمی، دھول، ٹریفک اور کھلی پارکنگ گاڑیوں کی باڈی، ٹائرز، بیٹری، اے سی اور انجن پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، جبکہ صرف پالش شدہ گاڑی کو اچھی حالت میں سمجھنا غلط فہمی ہو سکتی ہے۔
گاڑی کی صفائی اور معائنہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑی کو دھو کر اور خشک حالت میں دیکھنا ضروری ہے تاکہ خراشیں، ڈینٹ، زنگ، ری پینٹ شدہ حصے اور پینٹ فیڈنگ واضح طور پر نظر آ سکیں۔ سورج کی روشنی میں معائنہ کرنے سے گاڑی کی اصل حالت بہتر طور پر معلوم ہوتی ہے۔
پینٹ پروٹیکشن
رپورٹ کے مطابق ویکس، پولش اور سیرامک کوٹنگ جیسے طریقے گاڑی کے پینٹ کو سورج کی تپش اور دھول سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم خریداروں کو صرف چمک پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
ٹائروں کی جانچ
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گرمی میں ٹائروں کی حالت نہایت اہم ہوتی ہے کیونکہ خراب یا پرانے ٹائر ہائی وے پر خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ٹائر پریشر، ٹریڈ، سائیڈ وال کریکس اور مینوفیکچرنگ ڈیٹ چیک کرنا ضروری ہے۔
انجن آئل اور کولنٹ
انجن آئل، کولنٹ اور دیگر فلوئڈز کی کمی یا خرابی انجن اوور ہیٹنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ گاڑی خریدنے سے پہلے لیکج اور فلوئڈ لیولز کی جانچ لازمی ہے۔
بریکس، اے سی اور بیٹری
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بریکنگ سسٹم، لائٹس، وائیپرز، بیٹری اور اے سی کی کارکردگی بھی ضرور چیک کی جائے۔ کیونکہ یہ عناصر براہ راست گاڑی کی حفاظت اور آرام دہ استعمال سے متعلق ہیں۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ گاڑی خریدتے وقت صرف ظاہری چمک پر نہ جائیں بلکہ مکمل مکینیکل حالت کو ضرور جانچیں تاکہ بعد میں اضافی اخراجات اور مسائل سے بچا جا سکے۔
