سپریم کورٹ نے قتل کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے ہے کہ ایک بے گناہ کو سزا دینے کے بجائے 10 گناہ گاروں کو بری کر دینا بہتر ہے۔
سپریم کورٹ نے 20 سال پرانے قتل کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی عمر قید کی سزائیں کالعدم قرار دے دیں، عدالتِ عظمیٰ نے حکم دیا ہے کہ اگر ملزم کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔
8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ایک بے گناہ کو سزا دینے کے بجائے 10 گناہ گاروں کو بری کر دینا بہتر ہے، عدالت نے قرار دیا کہ شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو جاتا ہے اور یہ قانون کا مسلمہ اصول ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا جبکہ گواہان کے بیانات میں واضح تضاد پایا گیا، سپریم کورٹ نے نشاندہی کی کہ جائے وقوعہ قریب ہونے کے باوجود مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کی کوئی تسلی بخش وضاحت نہیں دی گئی۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ گولیوں کے خالی خول فرانزک لیبارٹری نہ بھیجنا تفتیش کا بڑا نقص ہے، فیصلے میں کہا گیا کہ جو شہادت ملزم کے سامنے بیان میں نہ رکھی جائے، اسے اس کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، عدالت میں بڑا قدم اٹھا لیا گیا
سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ صرف مفرور ہونے کو جواز بنا کر کسی شخص کو قصوروار قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ پولیس ہراسانی کے خوف سے روپوش ہونا جرم کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
