اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی مقامی عدالت نے سینیٹ کے ملازم حمزہ خان قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق پولیس افسر ایس پی عارف حسین شاہ کو سزائے موت سنا دی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے سینیٹ ملازم حمزہ خان قتل کیس کی سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ جاری کیا۔ جس میں سابق ایس پی عارف حسین شاہ کو سزائے موت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
عدالت نے کیس میں نامزد 2 دیگر شریک ملزمان صابر شاہ اور ثقلین کو عمر قید کی سزا سناتے ہوئے 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔
رپورٹ کے مطابق مقتول حمزہ خان کو مالی تنازع کے حل کے بہانے مانسہرہ بلایا گیا۔ جہاں اسے مبینہ طور پر اغوا کے بعد قتل کیا گیا اور لاش بعد ازاں ملزم کے آبائی علاقے سے برآمد ہوئی۔
تحقیقات کے مطابق حمزہ خان کو تقریباً 80 لاکھ روپے کے ایک دیرینہ مالی تنازع کے حل کے بہانے مانسہرہ بلایا گیا تھا۔ وہاں پہنچنے پر سابق پولیس افسر عارف حسین شاہ، ان کے بیٹے واصف شاہ اور دیگر شریک ملزمان نے انہیں بے دردی سے قتل کر کے لاش کو ایک پہاڑی علاقے میں خفیہ طور پر دفن کردیا تھا۔
پولیس نے جدید تفتیشی طریقہ کار اور فرانزک شواہد کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ جن کے اعتراف کے بعد کیس کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا۔
رپورٹ میں یہ اہم انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ سابق ایس پی عارف حسین شاہ اپنے سروس کے دور میں جب وہ ایس پی ٹریفک تعینات تھے۔ مانسہرہ کی ہی ایک خاتون پولیس اہلکار کے قتل کے کیس میں بھی نامزد ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر دفعہ 144 نافذ
اسی وجہ سے سابق پولیس افسر کو سروس سے قبل از وقت جبری ریٹائر کر دیا گیا تھا۔ لیکن وہ اس کے بعد بھی مبینہ طور پر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے۔
