اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بجلی صارفین کے لیے سبسڈی کے موجودہ نظام کو ختم کر کے نیا ٹارگٹڈ سبسڈی میکنزم متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق جنوری 2027 سے نیا نظام نافذ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ جس کے تحت سبسڈی صرف مستحق افراد کو فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر صارفین کی نشاندہی کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان پاور سبسڈی نظام میں اصلاحات پر اتفاق ہو چکا ہے۔ اور اس حوالے سے تحریری یقین دہانی بھی کرا دی گئی ہے۔ نئے نظام کے تحت ٹیرف ڈیفرینشل اور کراس سبسڈی جیسے موجودہ طریقہ کار کو ختم کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے کم یونٹس ظاہر کرنے کے لیے متعدد میٹرز کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ جبکہ بجلی صارفین کو نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری سے منسلک کرنے کا عمل بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ اور مستحق صارفین کی تصدیق کے لیے ورلڈ بینک کے تعاون سے نیا نظام متعارف کرایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق سبسڈی کی ادائیگی کے لیے ایک بیرونی فرم کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ جبکہ پاور سیکٹر میں شفافیت اور بہتری کے لیے مزید اقدامات زیر غور ہیں۔
حکومت آبپاشی نظام میں اصلاحات کے تحت ای-آبیانہ سسٹم ملک بھر میں نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ پنجاب میں یہ نظام پہلے سے رائج ہے جبکہ سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھی اسے جلد نافذ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 1.2 ارب ڈالر کی قرض قسط کے حوالے سے متوقع ہے۔ جس میں پاکستان کے لیے اہم فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔
