عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی کمزوری اور امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی امیدیں ہیں۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد اضافے کے بعد 4,701.19 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز میں بھی 0.4 فیصد اضافہ ہوا۔
ایران نے بدھ کو کہا کہ وہ امریکی امن تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدہ جنگ کے باضابطہ خاتمے کا باعث بن سکتا ہے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کھولنے جیسے اہم معاملات ابھی حل طلب ہیں۔
مارکیٹ تجزیہ کار ایڈورڈ میئر کے مطابق ڈالر کی کمزوری اور امریکی ٹریژری بانڈز کی کم ہوتی شرح منافع نے سونے کی قیمتوں کو سہارا دیا ہے، تاہم معاہدہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور صورتحال تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قلیل مدت میں سونے کی قیمت 4,600 سے 5,100 ڈالر فی اونس کے درمیان رہ سکتی ہے۔
ادھر عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں اس ہفتے تقریباً 6 فیصد کمی آئی ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کی امیدیں بڑھ رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق خام تیل کی بلند قیمتیں مہنگائی اور شرح سود میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں، جبکہ زیادہ شرح سود سونے جیسے نفع نہ دینے والے اثاثوں کی طلب کو متاثر کرتی ہے۔
سرمایہ کار اب جمعے کو جاری ہونے والی امریکی روزگار رپورٹ پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، جس سے فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی سے متعلق اشارے مل سکتے ہیں۔
