وفاقی آئینی عدالت نے نومسلم لڑکی کو دارالامان بھیجنے کا حکم دے دیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرنے والی لڑکی کو دارالامان لاہور منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت تک وہیں قیام کریں، عدالت نے ایک ہفتے کے اندر لڑکی کی عمر کے تعین کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کرانے کا بھی حکم دیا۔
سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ عمر کے تعین کیلئے صرف نادرا ریکارڈ پر انحصار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس میں رد و بدل ممکن ہے، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے معاشرے میں ایسے معاملات دیکھنے کو ملتے ہیں اور بہت سے والدین بچوں کی عمر کم درج کرواتے ہیں۔
جسٹس کے کے آغا نے استفسار کیا کہ اسلام قبول کرنا الگ معاملہ ہے تاہم لڑکی نے گھر کیوں چھوڑا۔ عدالت نے درخواست گزار سے رہائش اور ملازمت کے بارے میں بھی سوالات کیے، جس پر لڑکی نے بتایا کہ وہ بیوٹی پارلر میں کام کرتی ہے اور وہیں رہتی بھی ہے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر لڑکی کی عمر 18 سال سے کم ثابت ہوئی تو اسے والدین کے حوالے کیا جائے گا، عدالت نے اس معاملے میں ممکنہ دباؤ اور مذہب کی تبدیلی کے پہلو کو بھی اہم قرار دیا۔
عدالت نے درخواست گزار کو خبردار کیا کہ غلط بیانی کی صورت میں سخت کارروائی ہو سکتی ہے جبکہ پولیس حکام نے کہا کہ پارلر میں صرف سروسز فراہم کی جاتی ہیں تاہم لڑکی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہاں دیگر لڑکیاں بھی رہائش پذیر ہیں۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20 مئی تک ملتوی کر دی۔
