اسلام آباد: پاور ڈویژن نے سولر توانائی استعمال کرنے والے صارفین سے فیس وصولی کے معاملے پر ازسرنو غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور اس حوالے سے پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر توانائی اویس لغاری نے تجویز دی ہے کہ 25 کلوواٹ تک بجلی پیدا کرنے والے سولر صارفین سے فیس ختم کر دی جائے۔ ایسے اقدامات قابل تجدید توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
پاور ڈویژن نے اس سلسلے میں نیپرا سے باضابطہ درخواست کی ہے کہ لائسنس فیس کی شرط ختم کی جائے۔ جبکہ نئے ریگولیٹری قواعد پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ادارے نے مزید تجویز دی ہے کہ 2015 کے پرانے سولر قواعد کو بحال کیا جائے اور چھوٹے صارفین پر لائسنس یا فیس کی لازمی شرط کو غیر ضروری قرار دیا جائے۔
حکام کے مطابق سولر انڈسٹری نے بھی نئے ضوابط کو مسترد کر دیا ہے۔ جبکہ حکومت انتظامی رکاوٹیں کم کرنے کے لیے اقدامات تیز کر رہی ہے۔
دوسری جانب شدید گرمی کے باعث ملک میں سولر سسٹمز کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں سولر پینلز اور متعلقہ آلات کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی اے اے کا تمام ایئرپورٹس پر الیکٹرک کارٹ سروس متعارف کروانے کا فیصلہ
دکانداروں کا کہنا ہے کہ درآمدی اخراجات اور بڑھتی ہوئی طلب اس مہنگائی کی بڑی وجوہات ہیں، جس کا براہ راست بوجھ عام صارفین پر پڑ رہا ہے۔
