بھارتی اداکارہ یامی گوتم نے اپنی فلم “حق” کے لیے خصوصی اور گہری تیاری کرتے ہوئے قرآنِ مجید کے مطالعے اور عربی سیکھنے کا عمل اختیار کیا ہے.
ہدایتکار سُپرن ورما نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ کہ یامی گوتم نے اپنے کردار کی تیاری کے لیے تقریباً چار ماہ تک مذہبی متون اور لسانی باریکیوں پر خصوصی تربیت حاصل کی۔
ان کے مطابق فلم کی ٹیم نے اسلامی قانون اور متعلقہ موضوعات پر ایک سال سے زائد عرصے تک تفصیلی تحقیق کی تاکہ کہانی کو درستگی اور حساسیت کے ساتھ پیش کیا جا سکے۔
توہین مذہب کیس: رجب بٹ بڑی مشکل میں پھنس گئے
فلم “حق” بھارت کے معروف شاہ بانو کیس سے متاثر ہے، جو 1980 کی دہائی میں سامنے آنے والا ایک تاریخی عدالتی مقدمہ تھا۔ اس کیس میں ایک مسلم خاتون نے طلاق کے بعد نان نفقہ کے حق کے لیے قانونی جنگ لڑی تھی، جسے بعد ازاں بھارت میں خواتین کے حقوق اور پرسنل لا کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا۔
سُپرن ورما کے مطابق فلم کا مقصد خواتین کو درپیش تاریخی اور موجودہ سماجی چیلنجز کو اجاگر کرنا ہے، کیونکہ وقت گزرنے کے باوجود مختلف معاشرتی مسائل کی نوعیت میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ فلم اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ خواتین آج بھی مختلف سطحوں پر نظامی عدم مساوات کا سامنا کر رہی ہیں۔
ہدایت کار نے مزید کہا کہ یہ فلم ایسے دور میں پیش کی جا رہی ہے جہاں غلط معلومات اور ابہام عام ہیں، اس لیے اس کا مقصد ایک متوازن، ذمہ دار اور حقیقت پر مبنی نقطہ نظر پیش کرنا ہے۔ ان کے مطابق ذاتی تجربات اور مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ روابط نے اس موضوع کو حساس انداز میں پیش کرنے کی ضرورت کو مزید واضح کیا۔
صبافیصل کی شوہروں پر شک کرنیوالی بیویوں کو نصیحت
انہوں نے بتایا کہ فلم کے تصور کو ناظرین کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی ملی ہے اور ابتدائی ردعمل کے مطابق کہانی نے لوگوں کے ساتھ گہرا جذباتی تعلق قائم کیا ہے۔
View this post on Instagram
فلم “حق” کو شاہ بانو کیس کے تناظر میں ایک اہم سماجی اور قانونی موضوع پر مبنی پروجیکٹ قرار دیا جا رہا ہے، جو مسلم خواتین کے حقوق خصوصاً طلاق کے بعد نان نفقہ کے حق کے حوالے سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔
