اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے سول سرونٹ کنڈکٹ رولز 2026 نافذ کر دیئے۔ جس میں اثاثوں کے اعلان، سوشل میڈیا کے استعمال اور سیاسی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
سرکاری ملازمین کے یہ قواعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن پاکستان نے سول سرونٹ ایکٹ 1973 کے تحت جاری کیے ہیں۔ اور انہیں وزیر اعظم کی منظوری حاصل ہے۔ نئے ضوابط فوری طور پر ملک بھر کے سرکاری ملازمین سمیت بیرون ملک تعینات افسران پر بھی لاگو ہوں گے۔
نئے نظام کے تحت تمام سرکاری ملازمین کے لیے اپنے اثاثے ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کو ہر سال ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانا ہوں گی۔ جن کی جانچ پڑتال فیڈرل بورڈ آف ریونیو کرے گا۔
قواعد میں مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے اور تحائف قبول کرنے پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ جبکہ غیر ملکی اعزازات حاصل کرنے کے لیے پیشگی حکومتی اجازت ضروری ہو گی۔
سوشل میڈیا کے استعمال پر بھی نئی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ جن کے تحت سرکاری ملازمین حکومتی اجازت کے بغیر بلاگ، وی لاگ یا کسی بھی میڈیا پلیٹ فارم کا حصہ نہیں بن سکیں گے اور سرکاری معلومات شیئر کرنے پر مکمل پابندی ہو گی۔
نئے قواعد کے مطابق سرکاری ملازمین کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے، کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرنے یا سرکاری پالیسیوں پر عوامی سطح پر تنقید کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے کی شہریوں کو جعلی اور غیر قانونی سمز کے اجرا سے بچنے کی ہدایت
حکومت نے ان قواعد کے ذریعے پیشہ ورانہ نظم و ضبط، دیانت داری اور شفافیت کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ ان ضوابط کے نفاذ کے ساتھ ہی 1964 کے پرانے ضابطہ اخلاق کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ماہرین کے مطابق یہ اصلاحات سرکاری نظام میں جوابدہی اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کی اہم کوشش ہیں۔
