اسلام آباد: رحیمہ بی بی کیس نے بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کی بھرتی کے طریقہ کار اور سرحد پار روابط سے متعلق کئی اہم پہلوؤں سے پردہ اٹھا دیا۔
حکومت بلوچستان کی کوئٹہ میں پریس بریفنگ کے دوران پیش کیے گئے اعترافی بیان کے مطابق، رحیمہ بی بی کے شوہر منظور احمد پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک خاتون خودکش حملہ آور کی سہولت کاری کی، جو بعد میں سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملے میں ملوث رہی۔
رحیمہ بی بی کے اعترافی بیان سے یہ ثابت ہوا کہ ان کی ازدواجی زندگی کے دوران گھر کے اندر مشتبہ روابط اور دہشت گردی سے جڑی سرگرمیاں جاری تھیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد سہولت کاری کے نیٹ ورکس گھریلو ماحول تک سرایت کر چکے ہیں اور خاندانی نظام کو استعمال کر رہے ہیں۔
رحیمہ بی بی کے مطابق خاتون خودکش حملہ آور زرینہ رفیق ان کے گھر میں مقیم رہی۔ جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رہائشی گھروں کو دانستہ طور پر ان افراد کے لیے عارضی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا جو بعد میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہوئے۔
رحیمہ بی بی نے انکشاف کیا کہ زرینہ رفیق کو بعد ازاں افغانستان منتقل کیا گیا، جہاں اسے تربیت دی گئی اور پھر پاکستان کے اندر خودکش حملے میں استعمال کیا گیا، جو سرحد پار دہشت گرد معاونت کے حوالے سے دیرینہ خدشات کو مزید تقویت دیتا ہے۔
بیان میں اس بات کی بھی تصدیق ہوئی کہ رحیمہ بی بی کا موبائل نمبر ان کے شوہر نے شدت پسند عناصر سے رابطے اور ہم آہنگی کے لیے استعمال کیا، جو ذاتی شناخت کے دانستہ غلط استعمال کو ظاہر کرتا ہے تاکہ عملی روابط کو چھپایا جا سکے۔
اس بیان میں یہ بھی سامنے آیا کہ مشتبہ عناصر نے رہائشی گھروں کو عارضی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا، جو اس نیٹ ورک کے پھیلاؤ اور پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
سیکیورٹی جائزوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شدت پسند گروہ خواتین اور نوجوانوں کو نفسیاتی دباؤ، نظریاتی بیانیے اور سماجی کمزوریوں کے ذریعے نشانہ بناتے ہیں۔ بھرتی، تربیت اور کارروائی کے مراحل ایک منظم نظام کے تحت انجام دیے جاتے ہیں، جس میں مختلف گروہ اور کردار شامل ہوتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بعض بیانیاتی پلیٹ فارمز ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جو کمزور افراد کو متاثر کر سکتا ہے۔ جبکہ بعد ازاں انہی افراد کو دہشت گرد سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بعض کیسز میں گرفتار افراد کو “لاپتہ افراد” کے بیانیے سے جوڑنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے تاکہ عوامی رائے کو متاثر کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورکس نہ صرف پیچیدہ ہیں بلکہ سرحدوں سے ماورا ڈھانچوں کے تحت کام کرتے ہیں، جن میں بھرتی کرنے والے، سہولت کار، تربیت دینے والے اور ہینڈلرز شامل ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے بیشتر حصوں میں 12 سے 24 گھنٹے کے دوران بارش کی پیشگوئی
صوبائی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو تشدد کے لیے استعمال کرنا مقامی ثقافتی، اخلاقی اور مذہبی اقدار کے منافی ہے۔ حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ اداروں کے مطابق ان نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جن میں انٹیلی جنس آپریشنز، فرانزک تحقیقات اور قانونی اقدامات شامل ہیں، تاکہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے
