وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں جامع اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ اس نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔
وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے زیر اہتمام منعقدہ پاکستان گورننس فورم 2026 کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے بحث کا آغاز کیا، صوبوں کو سنا اور تمام شراکت داروں کو ایک میز پر بٹھایا۔
انہوں نے واضح کیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی عمودی تقسیم آئینی طور پر محفوظ ہے اور اس پر کوئی نظرثانی زیر غور نہیں۔
K-4 منصوبہ دسمبر 2026 تک مکمل ہوگا، کراچی کو 260 ملین گیلن پانی ملے گا، احسن اقبال
ساختی مالیاتی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تقریباً 14 ٹریلین روپے کے وفاقی ٹیکس محصولات اور 5 ٹریلین روپے کے نان ٹیکس محاصل میں سے تقریباً 8.2 ٹریلین روپے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو منتقل کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ “تقریباً 50 فیصد وفاقی اخراجات قرضوں کی ادائیگی اور لگ بھگ 25 فیصد دفاع پر صرف ہوتے ہیں۔ ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بعد وفاق کو پنشن، تنخواہوں، انتظامی اخراجات، ترقیاتی منصوبوں، گرانٹس اور سماجی تحفظ کے لیے زیادہ تر قرض لینا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال پائیدار نہیں۔
