ڈھاکا: بنگلادیش نے نئی دہلی ہائی کمیشن واقعے پر بھارتی دعوے کی تردید کر دی۔
بنگلادیش نے نئی دہلی میں بنگلادیشی ہائی کمیشن کے احاطے میں پیش آنے والے واقعے پر بھارت کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ کہ یہ واقعہ اقلیتوں کے خلاف حملوں کا حصہ تھا یا ’مس لیڈنگ پراپیگنڈا‘ تھا۔
بنگلادیش کی وزارت خارجہ نے ڈھاکا سے جاری کردہ پریس ریلیز میں اس واقعے کی شدید مذمت کی۔ اور کہا کہ 20 دسمبر کے واقعات کو پراپیگنڈا قرار دینا غیر جواز ہے۔
وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ہائی کمیشن کے احاطے کے باہر شرپسندوں کو آزادانہ حرکت کرنے کی اجازت دی گئی۔ جس سے ڈپلومیٹک عملے میں خوف و ہراس پیدا ہوا۔ اور مشن کو کسی منظم سرگرمی کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ بنگلادیش نے بھارت کی جانب سے یہ یقین دہانی تسلیم کی کہ وہ ملک میں تمام بنگلادیشی سفارتی مشنز کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے پابند ہیں۔
وزارت خارجہ نے اس بات کی بھی تردید کی کہ بھارتی حکام کی جانب سے ہندو برادری کے ایک شہری پر ہونے والے الگ واقعے کو اقلیتوں کے خلاف عام حملوں کا حصہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو بنگلادیش کی حکومت نے گرفتار کر لیا۔ اور ڈھاکا نے زور دیا کہ بنگلادیش میں بین المذہبی تعلقات جنوبی ایشیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں بہتر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: ایئرپورٹ پر پائلٹ کا مسافر پر بدترین تشدد، شدید زخمی کر دیا
بیان میں کہا گیا کہ اقلیتی برادریوں کی حفاظت ایک مشترکہ علاقائی ذمہ داری ہے۔ اور تمام جنوبی ایشیائی حکومتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی سرحدوں کے اندر اقلیتوں کے حقوق اور سلامتی کو یقینی بنائیں۔

