ایران کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایران پاکستان کے ساتھ اپنے تعاون کے لیے “بلینک چیک” دے رہا ہے، وہ جب اور جیسے چاہے اسے استعمال کرسکتا ہے۔
سینئر اینکر پرسن اور صحافی عاصمہ شیرازی کو انٹرویو دیتے ہوئے علی لاریجانی نے واضح کیا کہ اسرائیل نے قطر پر حملہ کرکے اپنی ’’خو‘‘ ظاہر کردی، حالانکہ قطر کے ساتھ اس کے رابطے موجود تھے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ہمیں پہلے سے معلوم تھا، اور پاکستان کو بھی حالات کا مکمل ادراک تھا۔
پاک افواج کی بہادری اور کامیابی قابلِ تعریف ہے،ڈاکٹر لاریجانی
ان کے مطابق امریکا اسرائیل کو پسِ پردہ ہمیشہ سپورٹ فراہم کرتا ہے، جبکہ اسرائیل کا اصل ہدف خطے کی مزاحمتی قوتوں کو جھکانا ہے۔
سابق اسپیکر مجلس شوریٰ نے کہا کہ قطر پر حملے کے بعد سعودی عرب سمیت متعدد دوست ممالک کو بھی حقیقت کا اندازہ ہوا۔اسرائیلی جارحیت کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال پر علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ ہم سب مسلمان ہیں، ہمارا قبلہ، کتاب اور پیغمبر ایک ہیں۔ اسرائیل جیسے دشمن کی موجودگی مسلم دنیا کے درمیان وحدت پیدا کرتی ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی لاریجانی نے پاکستانی قیادت کی کھل کر تعریف کی اور کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف، صدر اور وزیراعظم نے اسرائیلی جارحیت کے وقت بہترین مشاورت فراہم کی۔ انہوں نے پاکستانی پارلیمنٹ اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان نے ایران کے حق میں جو قرارداد منظور کی، ہم اس کے شکر گزار ہیں۔ پاکستان کا تعاون ایران کبھی نہیں بھولے گا۔
فلسطین کے مسئلے پر ایران کی واضح پالیسی
فلسطین سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ایران کا فلسطین کے بارے میں مؤقف اصولی اور جمہوری ہے۔ انہوں نے سپریم لیڈر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ راہبر انقلاب اسلامی نے کئی برس قبل واضح کیا تھا کہ اصل فیصلہ فلسطینی عوام کے انتخاب سے ہونا چاہیے۔ وائٹ ہاؤس فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرسکتا، جیسے وہ پاکستان کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔
ایران کی ایک بار پھر پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی پیش کش
انہوں نے غزہ امن منصوبے کے کچھ نکات کو قابلِ عمل قرار دیا، خصوصاً قیدیوں کے تبادلے سے متعلق حصے کو۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ غزہ کی مینجمنٹ غزہ کے عوام کے پاس ہونی چاہیے۔ اگر کوئی فورس صرف سرحدی سیکیورٹی کے لیے بنے تو ٹھیک، لیکن اگر مقصد غزہ کو غیرمسلح کرنا ہوا تو مسائل بڑھیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حماس غزہ اور فلسطین کا حصہ ہے، آپ کس کو نکالنے کی بات کرتے ہیں؟ عراق میں ایسے تجربے ناکام ہوئے۔
ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر دوٹوک مؤقف
علی لاریجانی نے مزید کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام ختم ہونے کی بات نہایت ’’ناپختہ‘‘ ہے۔ ہم ہزاروں نیوکلیئر ایکسپرٹس رکھتے ہیں۔ ایران اس مرحلے سے گزر چکا ہے، مگر ہم ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہے۔ ہمارا راستہ پُرامن مقاصد کا راستہ ہے۔
انہوں نے مذاکرات کی مخالفت نہیں کی مگر واضح کیا کہ وہ مذاکرات نہیں جن کا نتیجہ پہلے سے طے ہو۔
پاک افغان کشیدگی، دہشت گردی اور علاقائی سلامتی
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی پر ایران پریشان ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر اسٹریٹجک تعلقات کے خواہاں ہیں، اور ایران بھی پاکستان کے لیے اپنا فرض ادا کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ علاقائی حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق یہ گروہ کئی ملکوں میں سرگرم ہیں اور ان کی ایک نظریاتی تاریخ ہے۔
ایران پاکستان گیس پائپ لائن
گیس پائپ لائن سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایرانی حصہ مکمل ہوچکا ہے اور پائپ لائن سرحد تک پہنچ چکی ہے۔ ہمیں خوشی ہوگی کہ ایرانی گیس سے پاکستان کی توانائی کے مسائل حل ہوں۔
بھارت سے جنگ کا امکان اور پاکستان کے لیے “بلینک چیک”
سیکرٹری قومی سلامتی کونسل نے کہا کہ موجودہ حالات میں بھارت کی جانب سے کسی حملے کا امکان نہیں دیکھتے۔ ہم پاکستان اور پاکستانی عوام کو بلینک چیک دیتے ہیں کہ اسے جہاں چاہیں، جب چاہیں استعمال کریں۔
ایکس پر اہم پیغام
علی لاریجانی نے ایکس پر جاری پیغام میں بتایا کہ عاصمہ شیرازی نے مجھ سے پوچھا کہ ’’پاکستان اور بھارت ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے آپ کیا کرنے کو تیار ہیں‘‘
In an interview with @asmashirazi, she asked me: ‘To establish peace between Pakistan and India, and between Pakistan and Afghanistan, what are you prepared to do?’
I replied: Pakistan is very dear and honorable to the Iranian people, and we are prepared to give the Pakistanis a… pic.twitter.com/4W0ZRhLjBv
— Ali Larijani | علی لاریجانی (@alilarijani_ir) November 26, 2025
ان کا کہناتھا کہ میں نے جواب دیا’’پاکستان ایرانی عوام کے لیے نہایت عزیز اور محترم ہے اور ہم پاکستان کو ان مسائل کے حل میں مدد کیلئے’’ بلینک چیک‘‘دینے کے لیے تیار ہیں، جسے وہ جب چاہیں اور جیسے چاہیں استعمال کر سکتے ہیں‘‘۔

