کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کراچی کے مسائل پر عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا۔
ایم کیو ایم رہنما خالد مقبول صدیقی نے دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفنرس کرتے ہوئے کہا کہ کراچی شہر کے مستقبل پر شب خون مارا جا رہا ہے۔ اور کراچی کے ماسٹر پلان کو کرپشن پلان میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل پر عدالت سے رجوع کریں گے۔ اور طارق منصور ایڈوکیٹ ہمارے وکیل ہیں وہ کراچی کا مقدمہ عدالت عالیہ میں لڑ رہے ہیں۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ حکومت بوگس ماسٹر پلان کے ذریعے شہر پر قبضے کی تیاری کر رہی ہے۔ آج کی پریس کانفرنس کی بنیادی وجہ ہماری لیگل ایڈ کمیٹی کے آئندہ کا پروگرام دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہمارے کراچی ماسٹر پلان 2047 کے خلاف مہم کا آخری دن تھا۔ اور اب اس مہم کو مزید 10 دن کے لیے بڑھا رہے ہیں۔ ہمارے کارکنان اس شہر کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔
رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ اس شہر میں 17 سالہ جعلی حکومت کا اب خاتمہ ہونا چاہیے۔ جبکہ ہم نے اس حکومت میں رہ کر کراچی اور حیدرآباد کے لیے پیکج لیا ہے۔ 77 سال کے بعد حیدرآباد میں ایک یونیورسٹی قائم ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ میں بھارت کو زناٹے دار تھپڑ رسید کیا جس کی تصدیق امریکی رپورٹ میں بھی کی گئی، وزیراعظم
انہوں نے کہا کہ کراچی کے کئی کالجز کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ لیکن کراچی میں جامعہ کراچی کے بعد کوئی یونیورسٹی نہیں ہے۔
