عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی رہنما مارک زکر برگ اور ان کی اہلیہ پرِسیلا چان کی سربراہی میں کام کرنے والے تحقیقاتی ادارے بایو ہب نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور حیاتیاتی تحقیق کو یکجا کر کے دوا سازی اور علاج کی دریافت میں تیز رفتاری لانے کا اعلان کیا ہے۔
ادارے کے مطابق اس اقدام کے تحت عالمی سطح پر اکٹھا کیے جانے والے ڈیٹا، جدید کمپیوٹنگ وسائل اور جدید حیاتیاتی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا، تاکہ انسانی امراض کے بارے میں تفہیم اور ان کے علاج کے عمل کو پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔
بغیر مشین کے ہوا سے چلنے والے سافٹ روبوٹس، آکسفورڈ کی حیران کن ایجاد
بایو ہب نے اعلان کیا کہ وہ معروف اے آئی تحقیقاتی لیب ایوولوشنری اسکیل کے ساتھ شراکت کرے گا، جس کے بانی ایلکس رائیو اس منصوبے کے سربراہ سائنسدان کے طور پر کام کریں گے۔
منصوبے کے چار اہم اہداف:
1۔ ایک متحد اے آئی ماڈل تیار کرنا جو خلیات میں ہونے والے حیاتیاتی عمل کی درست پیش گوئی کر سکے۔
2۔ جدید امیجنگ سسٹمز تیار کرنا تاکہ حیاتیاتی عمل کو بڑے پیمانے پر مانیٹر کیا جا سکے۔
3۔ ایسے جدید آلات تیار کرنا جو سوزش (Inflammation) کے عمل کو حقیقی وقت میں کنٹرول اور مانیٹر کر سکیں۔
4۔ انسانی مدافعتی نظام کو اے آئی کے ذریعے ری پروگرام کر کے بیماریوں کی جلد شناخت، روک تھام اور مؤثر علاج ممکن بنانا۔
واٹس ایپ کے چینلز کیلئے دلچسپ فیچر کی آزمائش کا آغاز
بایو ہب کے حکام کے مطابق یہ اقدام حیاتیاتی تحقیق کی رفتار کو کئی گنا بڑھا سکتا ہے اور مستقبل میں ایسے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں جو پہلے دہائیوں میں ممکن نہیں تھے۔
یہ منصوبہ دوا سازی کی دنیا میں جدید انقلاب کی امید پیدا کر رہا ہے اور مستقبل قریب میں انسانی صحت کے لیے اہم پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے۔

