ملتان میں جلال پور پیر والا میں مقامی بند ٹوٹنے سے درجنوں دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ جلال پور پیر والا اور شجاع آباد میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
بھارت نے بھی ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا ہے، بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے پاکستانی حکام سے رابطہ کیا گیا اور دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑنے سے آگاہ کیا، وزارت آبی وسائل نے کہا کہ بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ہےجس کے بعد سیلاب الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، پانی کااخراج 3 لاکھ 19 ہزارکیوسک ہے۔
دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھنے سے جلالپور پیروالا سمیت ملحقہ علاقوں میں متعدد بستیاں زیر آب آگئی ہیں، پانی گھروں میں داخل ہونے کی وجہ سے شہریوں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھروں کی چھتوں پر پناہ لی۔
سندھ کے مختلف شہروں میں نشیبی علاقے زیر آب، ملک میں مزید بارشوں کی پیشگوئی
حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح مسلسل بڑھنے کی وجہ سے علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور شہر کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ رنگ پور میں پانی کا نیا ریلا پہنچ گیا، چناب کے ساتھ راوی کا پانی شامل ہونے سے دباؤ مزید بڑھ گیا ہے، جلالپور پیر والا کے 60 دیہات زیر آب چکے ہیں، پانی کسی بھی وقت شہر میں داخل ہو سکتا ہے۔
ملتان میں جلال پور پیر والا میں رات بھر سے ریسکیو آپریشن جاری ہے، ترجمان ریسکیو کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں صرف ملتان سے 2343 افراد کو سیلابی علاقے سے ریسکیو کیا جا چکا ہے، اب تک 10810 لوگوں کو ملتان کے سیلابی علاقوں سے ریسکیو کیا گیا ہے۔
ملتان کی ضلعی انتظامیہ مجموعی طورپر ساڑھے 3 لاکھ افراد اور 3 لاکھ سے زائد جانوروں کا ایڈوانس انخلاء کروا چکی ہے، ترجمان ریسکیو کے مطابق تمام اضلاع کے سیلابی علاقوں سے حکومت پنجاب 2 ملین افراد اور 1.5 ملین جانوروں کا محفوظ انخلاء کروا چکی ہے۔
ہزاروں افراد ابھی تک بھی سیلاب میں پھنسے ہیں جنہیں ریسکیو نہیں کیا جا سکا ہے، تحصیل جلالپور 7 لاکھ کی آبادی پر مشتمل ہے 2 لاکھ سے زائد افراد سیلاب کی زد میں ہیں، جلالپور پیروالا 3 لاکھ سے زائد شہری آبادی بھی سیلاب کے ہائی الرٹ پر ہے۔
خیبرپختونخوا میں سرکاری ملازمین کیلئے احساس ای پنشن سسٹم کا اجراء
اگر شہر میں سیلاب داخل ہوا تو مجموعی طور پر 5 لاکھ سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، ریسکیو کی جانب سے مزید بوٹس منگوائی گئی ہیں انتظامیہ کی جانب سے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، اس موقع پر ایک شہری نے کہا کہ محدود وسائل کے باعث انتظامیہ کی امدادی کارروائیاں ناکافی ہیں۔
جبکہ دریائے چناب میں پانی کی سطح متواتر بلند ہوتی جا رہی ہے، ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر اونچے درجے کاسیلاب ہیپانی کااخراج1 لاکھ35 ہزار کیوسک ہے، ہیڈ اسلام کے مقام پر درمیانے درجے کاسیلاب ہے، پانی کا اخراج 1لاکھ 20 ہزارکیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کاسیلاب ہے،پانی کا اخراج 84 ہزار کیوسک ہے، دریائے راوی میں بلوکی اورسدھنائی کے مقام پر بہت اونچے درجے کاسیلاب ہے، بلوکی کے مقام پر پانی کا اخراج 1 لاکھ 37 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
