پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بارش کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، بارش سے ندی نالے بپھر گئے ہیں۔
چکوال میں بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے اور متعدد فیڈرز ٹرپ کرگئے، بارش کی وجہ سے کئی علاقوں میں بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی ہے۔
شدید بارش کی وجہ سے انتظامیہ کی جانب سے کلرکہار کے علاقے نورپور میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، پشاور میں تہکال کے قریب امن چوک میں بارش سے بی آر ٹی ٹریک پر پانی جمع ہو گیا ہے۔
صوابی میں موسلادھار بارش سے پانی گھروں میں داخل ہو گیا، سیلابی پانی سے گاڑیوں کو نقصان پہنچا، لوئر دیر اور گردو نواح میں موسلادھار بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی۔
دوسری جانب پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ فلیش فلڈ کے باعث حادثات میں 382 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور 156 زخمی ہوئے، بونیر میں سب سے زیادہ 274، شانگلہ 36، مانسہرہ میں 24 افراد جاں بحق ہوئے۔
شدید بارشیں، مری میں 2 دن اسکول بند رکھنے کا فیصلہ
پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلابی ریلوں سے 106 مکانات تباہ، 233 کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ مختلف سیلابی ریلوں میں 320 مویشی بہہ گئے۔
واضح رہے کہ پاک فوج کا بونیر، سوات، شانگلہ اور باجوڑ میں فلڈ ریلیف آپریشن چوتھے روز بھی جاری ہے، زیادہ تر متاثرہ علاقوں میں شدید بارش کے باجود ریسکیو آپریشن جاری ہے، پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز میں سیلاب زدگان کو راشن اور دیگر سامان مہیا کیا جا رہا ہے۔
سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل بھی کیا جا رہا ہے، پاک فوج کی کور آف انجینئرز کے دستے راستوں کو کھولنے اور ملبے کو ہٹانے میں مصروف ہیں اس کے علاوہ زخمیوں اور لاشوں کو ڈھونڈنے کا کام بھی جاری ہے۔
پاک فوج کے ڈاکٹرز متاثرہ علاقوں میں کیمپس لگا کے مریضوں کے مفت علاج میں مصروف ہیں، تمام متاثرہ افراد کو بحفاظت ریسکیو کرنے اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنے تک آپریشن جاری رہے گا۔
