تحریر: فرحان بخاری
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیر کے روز شرح سود میں ایک فیصد کمی کرتے ہوئے اسے 12 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کر دیا، جو مہنگائی میں کمی اور اقتصادی ترقی کے مواقع کی عکاسی کرتی ہے۔ نئی شرح سود مارچ 2024 کے مقابلے میں بالکل آدھی ہو چکی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں1 فیصد کمی کردی
پیر کے فیصلے سے قبل اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا ایک روزہ اجلاس کراچی میں مرکزی دفتر میں منعقد ہوا۔ یہ اجلاس مارچ 2025 کے بعد دو ماہ کے وقفے سے ہوا، جب شرح سود کو 12 فیصد پر برقرار رکھا گیا تھا۔
شرح سود میں کمی کی ایک بڑی وجہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی ہے، جو اپریل میں کم ہو کر 0.28 فیصد پر آ گئی، یہ گزشتہ پچاس سالوں میں سب سے کم ماہانہ مہنگائی کی شرح ہے۔
پاکستان کی اقتصادی بہتری میں دیگر مثبت عوامل بھی شامل ہیں، جن میں سب سے اہم 7 ارب امریکی ڈالر کا آئی ایم ایف قرض ہے جو گرمیوں میں منظور ہوا۔ اس قرض نے پاکستان کو دیگر قرض دہندگان کے ساتھ کامیابی سے مذاکرات کرنے میں مدد دی اور مستقبل کے لیے قابل برداشت شرائط حاصل ہوئیں۔
شرح سود کے فیصلے کے پیچھے بڑی حد تک مہنگائی کی کمی کارفرما ہے۔ چونکہ مہنگائی میں کمی واقع ہوئی، اقتصادی ماہرین شرح سود میں کمی کی پیش گوئی پہلے ہی کر چکے تھے۔
یہ آئی ایم ایف قرض اس وقت منظور ہوا جب پاکستان اپنے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی میں ممکنہ ڈیفالٹ کے خطرے میں گھرا ہوا تھا۔
شرح سود میں بتدریج کمی اور نسبتی اقتصادی استحکام کی واپسی نے معاشرے کے مختلف طبقات کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ہے۔
معروف کاروباری شخصیات نے شرح سود میں کمی کا مطالبہ زور پکڑ لیا ہے تاکہ بینکوں سے لیے گئے قرضے سستے ہو سکیں۔
مثال کے طور پر، آٹو موبائل کے شعبے میں شرح سود میں کمی سے کاروں کی لیزنگ زیادہ سستی ہو جائے گی۔
تاہم ماہرین اقتصادیات خبردار کرتے ہیں کہ پاکستان کو دیگر عوامل پر بھی غور کرنا ہو گا۔
قومی اسمبلی،بھارتی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ منظور
پاکستان کی قومی بچت کی شرح، ہم پلہ ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ شرح سود میں کمی سے بچت کی حوصلہ افزائی میں مزید کمی ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان کی سالانہ اقتصادی ترقی کی شرح 2.5 فیصد سے 3.5 فیصد کے درمیان ہے، جو کہ ملک کی آبادی میں اضافے کی شرح کے برابر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو غربت کے خاتمے اور خوشحالی کے لیے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کرنی ہو گی۔
