آئندہ مالی سال مہنگائی کی شرح12فیصد رہنے کاامکان ہے،فچ

پاکستان کی معیشت

عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے پاکستان کے بجٹ پر رپورٹ جاری کر دی، جس میں آئندہ مالی سال کے لیے مہنگائی کی شرح 12 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ سے عالمی (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدے کی امید بہتر ہے، مگر مالیاتی اہداف کے حصول کے بارے میں واضح نہیں ہے۔ فچ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومتی اقدامات سے بیرونی ادائیگیوں پر دباو کم ہوگا مگر ترقی کی شرح توقع سے کم رہ سکتی ہے مگر آئندہ مالی سال ترقی کی شرح 3فیصد تک رہ سکتی ہے، فروری میں انتخابات کے بعد بیرونی ادائیگیوں کی صورتحال بہتر ہورہی ہے۔

پاکستان کے سارے حکمران گیٹ نمبر4سے نکلے ہیں، شیخ رشید

رپورٹ میں کہا گیا کہ برآمدات اور درآمدات میں فرق جی ڈی پی کے0.3فیصد تک جانے کی طرف گامزن ہے، پچھلے سال برآمدات اور درآمدات میں فرق جی ڈی پی کا ایک فیصد تھا، اس کے علاوہ زرمبادلہ کے نظام میں بہتری سے بیرون ملک سے ترسیل میں بہتری آئی ہے، بہتر زرعی برآمدات سے بھی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔

فچ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو 2024 اور 2025 میں سالانہ 20 ارب کی فنڈنگ درکار ہے، جبکہ پاکستان کو درکار فنانسنگ زرمبادلہ کے دستیاب ذخائر سےکہیں زیادہ ہےدوطرفہ ممالک کو ادائیگی کیلئے بھی پاکستان کو فنڈز درکار ہیں، پاکستان کے کچھ قرضے رول اوور ہونےکاسلسلہ جاری رہنے کاامکان ہے ۔

پبلک فگر ہونے کے ناطے ہرقسم کے فیڈ بیک کیلئے تیار رہتا ہوں،حارث رؤف

رپورٹ کے مطابق نئے بجٹ سے آئی ایم ایف کے ساتھ ممکنہ ڈیل کے امکانات بڑھ گئے ہیں، شہباز حکومت بجٹ کو پارلیمنٹ میں اتحادیوں اور اپوزیشن کی سخت مزاحمت کے علاوہ عوامی ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑے گا ۔


متعلقہ خبریں